آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے اچھے بھلے سمجھ دار لوگ بھی نازک مزاج اور حساس کیوں بن جاتے ہیں؟


سوشل میڈیا کے اثراتِ بد سے بچنے لئے کچھ  حقائق اور عملی تجاویز
1. جب ہم رنگ برنگی اور بے شمار متنوع موضوعات پر پوسٹس دیکھتے، پڑھتے یاسنتے ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا تو ہمارا ذہن اکثر اوقات جذباتی سوچوں میں مگن رہنے لگتا ہے جس کی وجہ سے ہم آہستہ آہستہ بہت حساس ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور رات کو پریشان بھی ہوتے ہیں کہ آج کچھ بھی نہیں کیا کیونکہ سکرولنگ بکھری ہوئی تھی ٹارگیٹڈ نہیں تھی۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی مرضی سے بہت کم کچھ کیا ہے بلکہ سوشل میڈیا نے اپنے حساب سے ہمیں مصروف رکھا۔ سچی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں اپنے تابع کر لیا ہوا ہے!
2. سوشل میڈیا کا ایک انتھائی اہم ہدف ہمارے دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹنن کی زیادہ سے زیادہ مقدار بنانا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار کا مسلسل پیدا ہونا اڈکشن کا سبب بنتا ہے۔ جب ہم لائیک، کمنٹ یا شیئر کرتے ہیں، یا کچھ ایسی ویڈیو دیکھتے ہیں جس سے ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم بڑے عالم بن چکے ہیں تو اس سے جو خوشی محسوس ہوتی ہے اور کچھ حاصل کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے اس سے دماغ میں یہ نیوروٹراسمٹر خارج ہوتے ہیں۔
3. سوشل میڈیا پر اکثر منفی خبریں اور تنقید پھیلائی جاتی ہے جس سے ہمارے دماغ میں کورٹیسول کا بہت زیادہ اخراج ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں ہم خودبخود تناؤ اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ اضطراب مایوسی میں مبتلا کرتا ہے۔ ہمیں سمجھ بھی نہیں آتا کہ ہم کیوں پریشان ہیں!
4. اب ہم ایک تو اپنے آپ بہت بڑا عالم محسوس کر رہے ہوتے ہیں اور ارد گرد اکثر جاہل چلتے پھرتے نظر آ رہے ہوتے ہیں اوپر سے سوشل میڈیا کے زیراثر اکثر ہم پر بے انتہا مایوسی چھائی رہتی ہے جس کی وجہ سے ہم معاشرے کے لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ تو بالکل تنہا، الگ تھلگ، پریشان اور ڈپریس رہنے لگتے ہیں۔اور ظلم یہ ہے اکثر اوقات اس کا قصوروار ہم اپنے علاوہ دوسروں کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
5. ہمیں بے چینی رہنے لگتی ہے کہ پتہ نہیں تھوڑی دیر میڈیا کو چیک نہ کیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا اور ہمیں کوئی شدید نقصان پہنچ جائے گا۔ یہ لاشعوری احساس مجبور کرتا ہے کہ بار بار سوشل میڈیا کو دیکھیں یا سنیں۔ حتی کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ دیکھتے اور سنتے چلے جاتے ہیں۔ یہی ایڈکشن یا نشہ ہے۔
6. چناچہ خیالات کے اس الجھاؤ کی وجہ سے بتدریج بہت سے لوگ بہت سے جذباتی مسائل کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اُن کا دل اپنے پیشہ ورانہ امور میں نہیں لگتا۔ اُنکے دوسروں سے تعلقات صحیح نہیں رہتے۔ اور بالآخر آہستہ آہستہ صحت  بھی خراب رہنے لگتی ہے۔ نیند سے محروم، غیر صحت مند کھانے کے عادی اور کم توجہ مرکوز کرنے والے بنتے چلے جاتے ہیں۔
7. اس چیز کو ماہرین نفسیات ڈوپامین کا نشہ اور ڈوپامن کا جال کہتے ہیں۔ یہ وہ جال ہے جو سوشل میڈیا کے کے کارفرما ماہرین پھیلا کر دولت پیدا کرتے ہیں۔
8. یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کو اپنی ضروریات اور اہداف کے تابع رکھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پلاننگ کچھ اور ہوتی ہے لیکن سوشل میڈیا اپنی مرضی سے ہمارے وقت کا استعمال کرتا ہے۔
9. بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر روز صبح کے آغاز پر ہم طے کریں کہ آج سوشل میڈیا کس مقصد کیلئے استعمال کرنا ہے؟ اور کون کون سی ایپس استعمال کرنی ہیں؟ بلکہ طے کرنا ہے کہ آج میں نے موبائل کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا ہے نہ اس کی مرضی سے وقت گذارنا ہے۔


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *