Keratoconus

What’s the problem?

جب کسی چیز کو ہم دیکھتے ہیں تو اُس سے شعاعیں منعکس ہو کر ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہیں۔ اُن شعاعوں کو آنکھ کے اوپر فوکس کرنے کا کام آنکھ کے دو لینز کرتے ہیں۔ ایک کو لینز ہی کہتے ہیں جبکہ دوسرے کو قرنیہ کہتے ہیں۔ قرنیہ بالکل شفاف ہوتا ہے جو عموماً نظر نہیں آتا۔ جب ہم کسی کی آنکھ کو دیکھتے ہیں تو جو کالا یا براؤن رنگ ہوتا ہے وہ قرنیہ کے پیچھے آئرس کا ہوتا ہے۔ البتہ جب کسی وجہ سے قرنیہ خراب ہو جائے تو وہ شفاف نہیں رہتا جس کی وجہ سے اُس کو ہم دیکھ سکتے ہیں البتہ پھر چونکہ شعاعیں اُس میں سے گذر کر پیچھے ریٹینا نہیں پہنچ سکتیں اسلئے نظر کم ہو جاتی ہے۔ قرنیہ کے خراب ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ قرنیہ کی گولائی خراب ہو جائے۔ ایک تو غیر ہموار ہو جاتا ہے دوسرے اُس کی شکل تکونی سی ہو جاتی ہے جیسا کہ سامنے کی تصویر میںدائیں طرف والے قرنیہ کی شکل نظر آرہی ہے۔ جب شفاف نہ رہے یا جب شکل تکونی ہو جائے تو پھر شعاعوں کو ریٹینا پر فوکس کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے۔ قرنیہ کی اِس کیفیت کو قرنیہ مخروطیہ یعنی Keratoconus کہتے ہیں۔ کیراٹوکونس کی بیماری کا اگر جلد پتہ چل جائے اور جلد علاج ہو جائے تو مریض کے اپنے قرنیہ کو صحیح کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر تاخیر ہو جائے تو کسی دوسرے کا عطیہ کردہ قرنیہ لگانا مجبوری بن جاتی ہے۔ اسے کیراٹوپلاسٹی یا قرنیہ کی پیوند کاری کہتے ہیں۔ نیچے کی پوسٹس میں اِس بیماری کی مختلف پہلوؤوں کو ڈسکس کیا گیا ہے۔ 

×

Hello!

Click one of our contacts below to chat on WhatsApp

× For appointment click here