آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

کیا عینک با قا ئدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے یا پھر بھی بڑھتا رہتا ہے؟

عینک بیماری کی وجہ دُور نہیں کرتی بلکہ صرف علامتوں کا علاج کرتی ہے یہ جو مشہور ہو گیا ہے کہ “عینک باقائدگی سے اِستعمال کرنے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے۔” یہ بالکل غلط ہے۔

آنکھ کی ساخت میں عموماً 18 سال کی عمر تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں کئی بچوں کی آنکھوں کی گروتھ بیس، اکیس، یا بعض بچوں کی گروتھ چوبیس سال کی عمر میں بھی رُکتی ہے۔ چنانچہ جب تک گروتھ ہوتی رہتی ہے اس وقت تک عینک کا نمبر بدلتا رہتا ہے خواہ عینک جتنی مر ضی با قا ئدگی سے اِستعمال کریں۔ جب آنکھوں کی گروتھ  رُک جاتی ہے اُس وقت عینک کا نمبر بھی ایک جگہ پر رُک جاتا ہے۔ عینک لگانے یا نہ لگانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

چونکہ بچپن کے دوران یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اس لئے عینک کا نمبر بھی بدلتا رہتا ہے۔ اسی لئے بچوں کی عینک کا نمبر وقتاً فوقتاً چیک ہوتا رہنا چاہیے تاکہ ساخت میں جتنی جتنی تبدیلی آتی جائے اُتنا اُتنا عینک کا نمبر بھی تبدیل کیا جاتا رہے۔

اِسی طرح چالیس سال کی عمر کے بعد پھر سے عموماً جسم میں تبد یلیاں آنی شروع ہو جا تی ہیں جیسے با ل سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں اِسی طرح اِس عمر کے بعد ایک دفعہ نظر میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔

٭ اگر پہلے عینک نہیں لگتی تھی اب ضرورت پڑ سکتی ہے۔

٭ پہلے والی عینک کا نمبر بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔

٭ دور اور نزدیک کا نمبر مختلف ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے ایک ہی عینک سے سارے کام ہو جاتے تھے اب نہیں ہوتے۔