آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

ڈاکٹر صاحب میرے بچے کی آنکھوں میں ٹیرھا پن ہے۔ کیا آپریشن نہ کروانے سے نظر تو متأثر نہیں ہوتی؟

جیسا کہ تصویر میں نظر آ رہا ہے؛ ایک آنکھ سے چیزیں نظر آ رہی ہیں جبکہ دوسری آنکھ سے بس شک سا پڑ رہا ہے کہ شاید کچھ ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی۔ یہ amblyopia ہے جو اکثر بچوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دماغ کو سمجھ ہی نہیں آ رہی ہوتی کہ سامنے کیا ہے؟ 
اگر وقت پر علاج ہو جائے تو دونوں بیماریاں سو فیصد قابلِ علاج ہیں لیکن اگر وقت گذر جائے تو پھر ساری عمر کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا۔

اگر چھوٹے بچوں کے بھینگے پن کو بروقت ٹھیک نہ کیا جائے تو خطرہ ہوتا ہے کہ جو آنکھ زیادہ عرصہ ٹیڑھی رہتی ہے اُس کی نظر متأثر ہو جائے۔ اِس بیماری کا نام Amblyopia ہوتا ہے۔ اگر ایمبلائی اوپیا ہو جائے تو اُس کے علاج پر بہت محنت صرف ہوتی ہے اور اگر گیارہ سال کی عمر تک علاج نہ کیا جا سکے تو پھر اُسکے بعد اِس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا یعنی پھر یہ نقص لاعلاج ہو جاتا ہے۔

دوسری چیز جو ایسے بچوں میں پیدا ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں اکیلی اکیلی تو دیکھ لیتی ہیں لیکن اکٹھی ایک کی چیز کو نہیں دیکھ سکتیں۔ اگر سات سال کی عمر سے پہلے پہلے اِس مسئلے کو حل کر لیا جائے تو ٹیڑھاپن مکمل ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اِس وقت سے پہلے پہلے اپریشن نہ کروایا جائےتو پھرزیادہ تر میریض ساری عمر بھینگاپن کی مرض میں مبتلا رہتے ہیں کبھی ایک آنکھ ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور کبھی دوسری آنکھ۔ بہرحال کوئی ایک آنکھ لازماً ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ کبھی دائیں اور کبھی بائیں۔