آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

پریشانیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟

پریشانی کی جڑ

پریشانی کی جڑبے یقینی کی کیفیت کی کیفیت میں مبتلا ہونا ہے۔ اور اس بے یقینی کی وجہ خوف ہوتا ہے جو بعض اوقات معلوم ہوتا ہے تاہم اکثر اوقات پتہ بھی نہیں ہوتا کہ کس بات کا خوف ہے۔ وہ لاشعور میں کہیں موجود ہوتا ہے اور نفسیاتی تجزیہ کرنے پر مل جایا کرتا ہے۔ 

ہمارے ہاں پریشانی کے اسباب

بہت سے لوگوں کی پریشانیوں کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے نتیجے میں مندرجہ ذیل صورت حال سامنے آتی ہے:

  • 25 فیصد یا اس سے بھی کم پریشانیاں ایسے مسائل کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کا تعلق موجودہ حالات کے مسائل سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ مسائل جو فوری حل طلب ہوتے ہیں۔ اور اُن کا پریشر تنگ کر رہا ہوتا ہے
  • 30 فیصد پریشانیوں کا تعلق ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے۔ ماضی کی یادیں، کسی سے شکوہ، کسی سے نفرت، کاش ایسے نہ ہوتا، کاش میرے ساتھ فلاں یوں نہ کرتا، وغیرہ۔
  • 45 فیصد یا اس سے بھی زیادہ پریشانیوں کا تعلق مستقل کے خدشات سے ہوتا ہے۔ یعنی یوں ہو گیا تو کیا بنے گا! اگر ایسے ہو گیا تو کیا کریں گے؟ وغیرہ وغیرہ
  •