[vc_row full_width=”stretch_row” content_placement=”middle” el_id=”row-rtl”][vc_column][vc_column_text]

الرجی کے نقصانات سے بچنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟

آسان ترین طریقہ تو یہی ہے کہ الرجی کا علاج کرنے میں لاپرواہی سے کام نہ لیا جائے۔ معروف مقولہ ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے اور پرہیز کا بہت اہم پہلو یہ ہے کہ بیماری کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ پیچیدگیوں کو آنے سے روکا جائے کیونکہ جب وہ آ جاتی ہیں تو بہت اچھے اچھے علاج کرکے بھی اکثر اوقات آنکھیں مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتیں۔

مریضوں کی اکثریت کے بارے میں الرجن کا تعیّن کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ الرجی ٹیسٹ بھی کروائیں تو بےشمار چیزیں ایسی سامنے آتی ہیں جن سے الرجی ہوتی ہے مثلاً سو الرجن اور پھر چیزیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔ بعض خوش قسمت لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ فلاں چیز سے الرجی ہوتی ہے اُن کو اُس چیز سے بچنا چاہئے۔

اگر ویکسینیشن ممکن ہو تو اُس کی کوشش کرنی چاہئے اگرچہ اکثریت میں یہ بہت زیادہ مفید ہیں ہوتی لیکن کیا پتہ کہ آپ اُن خوش قسمت افراد میں سے ہوں جن کو اِس سے فائدہ ہوجاتا ہے۔

فضائی آلودگی کے بہت سے مضر اجزاء کے خلاف جسم میں حسّاسیّت پیدا ہوتی اِس لئے اِس سے بچنا اور اِس کی کمی کے لئے جدوجہد بہرحال مفید ہوتا ہے۔

کنٹیکٹ لینز الرجی کا بہت اہم سبب ہیں اِس لئے اِن سے بچنا چاہئے۔ اگر آپ عینک سے بہت متنفّر ہیں تو لیزر اپریشن کروا لیں لیکن کینٹیکٹ لینز اِستعمال نہ کریں۔

الرجی کا کیا علاج ہوتا ہے؟

جس الرجن سے بچنا ممکن ہو اُس سے بچا جائے۔

الرجی کے علاج کے بارے میں سنجیدگی اِختیار کی جائے۔ اِسے غیر اہم اور غیر ضروری نہ سمجھا جائے۔

اگر علامات بہت ہلکی ہوں تو صرف Antihistamine+Vasoconstrictor دوائیاں ہی کافی ہوتی ہیں اور اِن کو حسبِ ضرورت اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دوائیاں میڈیکل سٹوروں سے عام مل جاتی ہیں اور اِنھیں بغیر نسخے کے بھی خریدا جا سکتا ہے۔

اکثر اوقات الرجی کے ساتھ انفیکشن بھی شامل ہوتی جِس کی خصوصی علامات ہوتی ہیں اور جو ڈاکٹر کو ہی چیک کرنے سے نظر آتی ہیں۔ اِس صورت میں ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہوتا ہے۔ اِس سلسلے میں عمومی اصول یہ ہے کہ ایک دفعہ ڈاکٹر کو چیک کروا کے تسلی کر لیں کہ انفیکشن ہے کہ نہیں۔ پھر نوٹ کرتے رہیں کہ عمومی علامات میں شدّت تو نہیں آرہی، کیا پہلے والی عمومی ادویات بے اثر تو ہوتی محسوس نہیں ہو رہیں، آنکھ میں درد یا سوجھن تو شروع نہیں ہو گئی، خصوصاً روشنی سے درد میں اضافہ تو نہیں ہو جاتا یا ایسا تو نہیں کہ روشنی برداشت ہی نہ ہوتی ہو؛ اِس طرح کی علامات انفیکشن کی موجودگی کی طرف اِشارہ کرتی ہیں۔ اِس صورت میں فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔ وہ آنکھ کو چیک کرکے کیفیت اور نقصان کی نوعیّت کے مطابق آپ کی رہنمائی کر دے گا۔

انفیکشن کی صورت میں Antibiotics کا اِستعمال بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

اکثر اوقات علامات کی شدت کے دورے کے دوران Antibiotic+Steroid Combination کا ایک ہفتے کے لئے اِستعمال بہت مفید رہتا ہے۔

اِس وقت بیماری کی وجہ کو دور کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جو ادویہ میسّر ہیں اُنھیں Mast cell stablizers کہا جاتا ہے۔ اِن کا عموماً تین مہینے کا کورس کر لیا جائے تو کافی لمبے عرصے کےلئے علامات پیدا نہیں ہوتیں۔ تاہم اکثر اوقات اِن کی مدد کے لئے کوئی نہ کوئی دوائی ساتھ چاہئے ہوتی ہے جو علامات کی شدت کے حساب سے بدلتی رہتی ہے اور کئی دفعہ بند بھی کروا دی جاتی ہے۔

جِن لوگوں میں بہت عرصہ تک سوزش موجود رہے اور کوئی علاج نہ ہوا ہو اُن میں اکثر نظر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اِن لوگوں میں زیادہ تر سلنڈر نمبر کی عینک لگتی ہے اور وہ ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اِس طرح کے بہت سے مریضوں کی الرجی کا صحیح طرح علاج کرنے سے کُچھ عرصہ بعد یہ عینک اُتر جاتی ہے۔

جِن لوگوں کی آنکھوں کا قرنیہ خراب ہونا شروع ہو جائے اُن میں Cyclosporin دوائی بہت مفید ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اِس قسم کے مریضوں کی آنکھوں میں Limbus کے گرد Avastin کے ٹیکے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں جو کہ Immunomodulation کے ذریعے بیماری کے بنیادی سبب کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اِن کے ذریعے بعض بڑے بڑے بگڑے ہوئے کیس معجزاتی انداز میں صحیح ہو جاتے ہیں۔

جن لوگوں کے قرنیہ میں زخم بن جاتے ہیں اُن میں اکثر Bandage Contact Lens کی ضرورت پڑتی ہے جس سے Ulcer اور Punctate Erosions کے صحیح ہونے میں مدد ملتی ہے۔

کیا ہم خود بھی علاج کروا سکتے ہیں یا لازماً ڈاکٹر کے پاس جا کر ہی علاج کروانا چاہئے؟ کیا میڈیکل سٹوروں سے لے کر دوائیاں اِستعمال کرنے سے یہ بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے؟

اگر ڈاکٹر کی رہنمائی موجود ہو تو زیادہ تر مریضوں کو بابار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر ڈاکٹر اُن کیفیات کا بتا دیتے ہیں کہ اگر پیدا ہوں تو وراً رابطہ کر لیں وگرنہ دوائیاں اِستعمال کرتے رہیں۔ اِس طرح عام حالات  میں چھوٹی موٹی دوائی میڈیکل سٹور سے خود ہی خرید کر اِستعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر بیماری میں شدت آنے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کر لیں۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *