آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

سفید موتیا کا کب اپریشن کروانا چاہئے؟ ابھی تو مجھے کافی نظر آتا ہے میں کیوں اپریشن کرواؤں؟

اپر یشن کروانے کے وقت کے حوا لے سے اب یہ عمومی اصول طے ہو چکا ہے کہ اپر یشن کا فیصلہ مریض کی معذوری کی بنیاد پر کِیا جا ئے گا۔ چنا نچہ ایک مریض جو کم عمر ہے ، اُسے گا ڑی چلا نی ہے، اور اُسے کمپیوُ ٹر پر کام بھی کر نا ہے اُسے بہت اچھی نظر کی موجودگی میں بھی یہی مشورہ دیا جائے گا کہ آپ فوراً اپر یشن کروا لیں ؛ اِس کے مقا بلے میں ایک امّاںجی جو بو ڑھے اور کمزور ہیں، پڑ ھے لکھے بھی نہیں اور سوائے چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کے کوئی خاص مصروفیّت بھی نہیں اُن کی اچھی خاصی کمزور نظر کے با وجود بھی شاید ڈاکٹر اپریشن پر بہت زیادہ اصرار نہ کرے۔ اور اُن کو یہی مشورہ دے کہ آپ اگر ابھی گذارہ کرنا چاہتی ہیں تو بے شک کرلیں اور اگر اپریشن کروانا چاہتی ہیں تو بےشک آج ہی اپریشن کروا لیں۔ زیادہ تر ایسے بزرگوں کی اپنی خوا ہش بھی یہی ہوتی ہے کہ ابھی مجھے نظر آتا ہے اِس لئے ابھی میرا اپر یشن نہ کریں۔

آئیڈیل طریقہ یہی ہے کہ جب سفید موتیا کی وجہ سے نظر کم ہونا شروع ہو جائے اور کام کرنے میں مشکل شروع ہو جائے تو پھر بلاوجہ لیٹ کرنے کی بجائے آپریشن کروا لینا چاہئے کیونکہ بیماری کو پالنا کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا۔ اور اللہ تعالی کی دی ہوئی نظر کی نعمت سے پورا فائدہ نہ اٹھانا شاید اللہ تعالی کی ناشکری بھی ہے۔ جب آپریشن ہو جاتا ہے تو اکتر بزرگ یہ فقرہ ادا کرتے ہیں کہ میری تو جوانی کی نظر واپس آ گئی ہے! تو اس کا مطلب ہوا کہ جو لوگ آپریشن نہیں کرواتے وہ بلاوجہ بوڑھے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

جتنی جلد ممکن ہو اپریشن کروا لینا چاہئے۔ اب اتنے اچھے طریقے سے اپریشن کیا جاتا ہے کہ صرف چند منٹ میں اپریشن مکمل ہو جاتا ہے۔ بعد میں بہت زیادہ احتیاطیوں کی بھی اب ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اب اپریشن کے رزلٹ بھی مریضوں کی اکثریت میں بہت اچھے ملتے ہیں۔

ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ لیٹ کرنے سے اکثر اوقات مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، ڈاکٹر کو اپریشن کرنے میں دقت ہوتی ہے اور بہت سارا خطرہ ہوتا ہے کہ رزلٹ بہت اچھے نہیں مل سکیں گے۔ خصوصاً جو جدید طریقہ علاج ہے یعنی فیکو آپریشن تاخیر کرنے سے اس طریقے میں زیادہ مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس طریقے میں موتیا کو شعاعوں کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے پیس کرکے نکالنا ہوتا ہے۔ تاخیر کرنے آہستہ آہستہ موتیا زیادہ سخت ہوتا جاتا ہے جس کو نکالنے کیلئے شعاعیں بہت زیادہ لگانی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگوں کا قرنیہ خراب ہو جاتا ہے۔ جس ک وجہ سے کئی لوگوں کو کیراٹوپلاسٹی کروانا پڑتی ہے۔ اور چونکہ کیراٹوپلاسٹی بہت مہنگا آپریشن ہے اسلئے بہت سارے لوگ بیچارے آپریشن کروانے کے بعد بھی نظر سے محروم ہی رہتے ہیں۔

ایمرجنسی میں اپریشن کروانے کی ضرورت نہیں لیکن بلاوجہ لمبے عرصے کے لئے ٹالتے رہنا اکثر اوقات نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔