آنکھوں کی بیماریوں اور علاج کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرنے کیلئے مینو پر کلک کریں

کیا پڑھائی سے بچوں کی نظر کمزور ہو جاتی ہے؟

عام خیال ہے کہ جب پڑھائی کا بوجھ پڑتا ہے تونظر کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ کیا پڑھائی بچوں کی آنکھوں کے لئے نقصان دہ ہے؟ کئی بچے بہت چھوٹی عمر بھی لگائے پھرتے ہیں۔ نظر کمزور ہونے کا کس عمر میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟   

نظر کی کمزوری کا اِظہار پہلی دفعہ کب ہو گا یہ مختلف لو گوں میں مختلف ہو تا ہے۔ البتّہ چونکہ بچوں کی عمر کے دو حصّے ایسے ہیں جن میں اُن کا جسم تیزی سے بڑھنا شروع کر دیتا ہے؛ ایک تو 10 سے 12 سال کی عمر ہے اور دوسری 16 سے 18 سال کی عمر۔ چونکہ بچوں کی نظر کی کمزوری کا گہرا تعلق آنکھ کی گروتھ سے ہے یعنی انہی دنوں میں آنکھ بھی باقی جسم کی طرح تیزی سے بڑی ہوتی ہے۔ جب غیر متناسب گروتھ ہوتی ہے تب ہی پہلی دفعہ فوکس خراب ہونا شروع ہوتا ہے اور علامات پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں چنانچہ بچوں کی عمر کے یہی دو حصے ایسے ہیں جن میں یا تو پہلی دفعہ نظر کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے یا اچانک اُس کی مقدار بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عینک کا نمبر بڑھتا ہی ہے لیکن کئی بچوں کا خود بخود کم بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے سے نظر کمزور نہیں ہوتی لیکن پڑھنے والے بچوں کی نظر کی کمزوری ظاہر ہو جاتی ہے کیونکہ جب وہ پڑھائی کرتا ہے تو علامات ولدین کو مجبور کر دیتی ہیں کہ بچے کو چیک کروائیں۔ جو بچے پڑھائی نہیں کرتے نظر اُن کی بھی کمزور ہوتی ہے لیکن اُن میں علامات پیدا نہیں ہوتیں اِس پتہ نہیں چلتا۔ البتہ جدید تحقیقات اِس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ پڑھائی کے بعض ایسے طریقے ضرور ہیں جو نظر کی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • اِن میں سب سے اہم کمپیوٹر کا بہت زیادہ استعمال ہے۔
  • اِسی طرح جو بچے حفط کرتے ہوئے لمبے لمبے عرصے کے لئے نزدیک نظر کو مرکوز کیے رکھتے ہیں اُن میں نظر کمزور ہو جانے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔
  • جو بچے گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں اُن میں بھی ی خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے کہ اُن کی نظر کمزور ہو جائے گی۔

بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پیدا ہوتے وقت ہی نظر بہت زیادہ کمزور ہوتی ہے یا ابتدائی ایام میں ہی بہت زیادہ کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسے بچوں کو نابینا ہونے سے بچانے کے لئے عینک ناگزیر ہوتی ہے۔

اِس لئے اِس بارے میں کچھ نیہں کہا جا سکتا کہ کس عمر میں بچے کی نظر کمزور ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ یہ قسمت کی بات ہے۔ اِسی لئے جہاں ممکن ہو وہاں یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ بغیر علامات کے بھی بچوں کی نظر کا معائنہ کیا جائے۔ نظر تو پہلے کمزور ہوتی ہے علامات تو بہت بعد میں پیدا ہوتی ہیں۔ اور بعض کیفیات مثلاً Amblyopia، بھینگا پن کو پیدا ہونے سے بچایا تو جا سکتا ہے لیکن جب پیدا ہو جائیں تو علاج بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اِن سے بچانا تب ہی ممکن ہے جب نظر کی کمزوری بالکل شروع شروع میں ہی پکڑی جائے۔