السلام علیکم میں نے جو آرٹیکل میں نے لکھے ہوئے ہیں اُن کا مطالعہ کریں کیونکہ وہ بہت عام فہم ہیں۔
آنکھوں میں ٹیڑھا پن آ جانے کی مختلف مریضوں میں مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ چنانچہ سب کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مثلاً
1۔ اگر شوگر ہے اور اُس کی وجہ سے آنکھ کا مسل کام چھوڑ گیا ہے تو شوگر کو صحیح طرح کنٹرول کرنے سے بھینگا پن ختم ہو جاتا ہے۔
2۔ اگر بچے کی نظر کمزور ہے خاص طور پر مثبت نمبر والے شیشے لگ رہے ہیں مثلاً 6+ تو باقاعدگی سے عینک استعمال کرنے سے ٹیڑھا پن ختم ہو جاتا ہے۔
3۔ اگر intermittent exotropia ہے تو آنکھوں کی کچھ ورزشیں ہوتی ہیں جن کے کرنے سے ٹیڑھا پن ختم ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔
4۔ اگر آنکھوں کے مسلز میں فالج ہے، یا ایک وقت میں ایک آنکھ ہی فوکس کرتی ہے دوسری ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور عمر بھی ابھی کم ہے تو اِس صورت میں آپریشن ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اور جلدی آپریشن ضروری ہوتا ہے۔
5۔ بعض ایسی بھی صورتیں ہیں جن میں آپریشن بھی ضروری ہوتا ہے اور بعد میں دیگر علاج بھی لمبا عرصہ چلتا رہتا ہے۔
یہ تو عمومی باتیں ہیں آپ کے مریض کا کیا مسئلہ ہے، اُس کی بیماری کس سٹیج پر ہے؟ یہ باتیں معائنہ کئے بغیر معلوم کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ معائنہ کئے بغیر میرے لئے کوئی مشورہ دینا ممکن نہیں۔
وعلیکم السلام اگر تجربہ کار ڈاکٹر آپریشن کرے اور آپریشن کیلئے معیاری انتظامات موجود ہوں، اور آپریشن سے پہلے ہر حوالے سے معائنہ کیا گیا ہو تو آپریشن سے نظر کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
ہمارے پاس جدید ترین اپریشن تھیٹر ہے جس میں اپریشن کیلئے جرمنی کی جدید ترین اپریشن مائیکروسکوپس ہیں، بیہوشی کیلئے جدید ترین مشینیں ہیں۔ اپریشن کرنے کا تجربہ بھی دہائیوں پر محیط ہے اور بہترین ادویات استعمال کرتے ہیں اسلئے الحمدللہ ہمارے ہاں اپریشن بہت محفوظ ہے اگرچہ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ آخری نتائج اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہم اسباب بہترین استعمال کرتے ہیں۔
