آپ کی نظر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر آصف کھوکھر ایک سینئر آئی سرجن ہیں جو لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر میں بطور کنسلٹنٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔ جو کہ جدید ترین تشخیصی اور سرجیکل ٹیکنالوجیز کے ساتھ پاکستان کا بہترین آنکھوں کا مرکز ہے۔

ڈاکٹر کو آنکھوں کے آپریشنز کرتے ہوئے 34 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے خصوصاً فیکو سرجری، لیزر سرجری، وٹریوریٹینل سرجری، اور اوکولوپلاسٹک سرجری میں اُن کی دلچسپی رہی ہے۔
وہ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے پرعزم ہیں۔ اُن کا مشن آنکھوں کی بیماریوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ وہ مریضوں کے لیے اپنی ہمدردی کے لیے مشہور ہیں۔ ہر مریض کو خصوصی توجہ دینا اُن کا خاصہ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے گھر میں کسی کو نظر کا مسئلہ ہے تو ماہر آئی سرجن سے بروقت مشورہ کرنا ضروری ہے۔

آپ کی بینائی قیمتی ہے — اسے تجربہ کار ہاتھوں میں محفوظ کریں

Click here and send message to book your appointment or ask your question about LASIK, Squint, or Retina

اپوائنٹمنٹ لینے کیلئے یا لاسک،بھینگاپن، یا پردہ بصارت کے بارے میں اگر کوئی سوال ہے تو یہاں کلک کرکے میسیج کریں

جی یہ چیز غلط فہمی پر مبنی ہے۔ انجیکشن Patizra یا Leucentis دو قسم کی وائیلز میں دستیاب ہے:

  ۔ 10mg/ml یہ کینسر کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

 ۔ 0.50mg/ml یہ آنکھوں کی بیماریوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

 

آنکھوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی وائیل vial کئی گُنا زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔

ہو سکتا ہے آنکھوں کیلئے انجیکشنز تیار کرنے والی کمپنیاں انہی ٹیکوں سے آنکھوں کیلئے ٹیکے تیار کرتی ہوں! کیونکہ 10mg/ml کی وائل سے آنکھوں والے 0.50mg/0.50ml قریباً تیس انجیکشنز تیار ہو سکتے ہیں۔

جو دوائیاں آنکھوں کے استعمال کیلئے بنائی جاتی ہیں وہ مہنگی ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک اور دوائی ہے Moxifloxacin یہ بخار اور دیگر کئی قسم کی بیماریوں میں گولیوں کی شکل میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک گولی میں 400mg دوائی ہوتی ہے اور ایک گولی کی قیمت سو روپے سے کم ہے۔ جبکہ یہی دوائی Vigamox قطروں میں بھی ہوتی ہے۔ ایک شیشی میں دوائی کی اتنی کم مقدار ہوتی ہے کہ شاید 20 روپے بھی قیمت نہ ہو لیکن وہ قطرے 600 روپے میں آتے ہیں۔
اِسی طرح جو دوائیاں آنکھوں کے اندر انجیکشنز کیلئے تیار کی جاتی ہیں وہ مقدار میں کم ہوتی ہیں لیکن قیمت میں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

عموماً کوشش کی جاتی ہے کہ دو مریضوں میں یہ انجیکشن شیئر کیا جائے کیونکہ ایک وائیل میں دوائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور ایک ہی مریض ہو تو باقی دوائی ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر یہ انجیکشن شیئر نہ ہو سکے (یعنی دو مریضوں کو آدھا آدھا) تو پھر کم پیسوں میں ممکن ہی نہیں ہوتا۔

ایک اور چیز ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ دراصل یہ انجیکشن لگانا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک چھوٹا آپریشن ہوتا ہے جس میں آپریشن والی پوری چیزیں اور پورا پروٹوکول استعمال ہوتا ہے۔ ہسپتال کے OT charges بھی ہوتے ہیں اور بہت سی ڈسپوزیبل چیزیں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی لئے آپریشن فیس بھی ہوتی ہے۔ یہ غلط فہمی اُن لوگوں کو ہوتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ جو پیسے چارج کئے جاتے وہ صرف انجیکشن کی قیمت ہوتی ہے یا پھر ٹیکہ لگانے کے پیسے پانچ سو ہزار لے لیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *