آپ کی نظر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر آصف کھوکھر ایک سینئر آئی سرجن ہیں جو لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر میں بطور کنسلٹنٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔ جو کہ جدید ترین تشخیصی اور سرجیکل ٹیکنالوجیز کے ساتھ پاکستان کا بہترین آنکھوں کا مرکز ہے۔

ڈاکٹر کو آنکھوں کے آپریشنز کرتے ہوئے 34 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے خصوصاً فیکو سرجری، لیزر سرجری، وٹریوریٹینل سرجری، اور اوکولوپلاسٹک سرجری میں اُن کی دلچسپی رہی ہے۔
وہ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے پرعزم ہیں۔ اُن کا مشن آنکھوں کی بیماریوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ وہ مریضوں کے لیے اپنی ہمدردی کے لیے مشہور ہیں۔ ہر مریض کو خصوصی توجہ دینا اُن کا خاصہ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے گھر میں کسی کو نظر کا مسئلہ ہے تو ماہر آئی سرجن سے بروقت مشورہ کرنا ضروری ہے۔

آپ کی بینائی قیمتی ہے — اسے تجربہ کار ہاتھوں میں محفوظ کریں

Click here and send message to book your appointment or ask your question about LASIK, Squint, or Retina

اپوائنٹمنٹ لینے کیلئے یا لاسک،بھینگاپن، یا پردہ بصارت کے بارے میں اگر کوئی سوال ہے تو یہاں کلک کرکے میسیج کریں

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق 75 فیصد پریشانیاں روپے پیسے سے متعلق ہوتی ہیں اوار اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ہماری آمدن میں صرف 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو ہماری مالی پریشانیاں ختم ہو جائیں گی حالانکہ اکثر اوقات یہ بات بالکل غلط ہوتی ہے۔ آمدن میں اضافہ ہونے سے سوائے اخراجات بڑھ جانے اور سردردی میں اضافہ ہونے کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ روپے کو سلیقہ سے خرچ کرنے کے فن کو جاننے کا ہے جس سے اکثر لوگ بے بہرہ ہوتے ہیں۔

 

آمدن کو خرچ کرنے باقاعدہ پلان بنانا چاہئے اور پھر اس کے مطابق خرچ ہونا چاہئے۔ بغیر سوچے سمجھے خرچہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس بات کا فیصلہ کیجئے کہ مسرت کیسے ملے گی؟ ابنے آپ کو ایک متوازن بجٹ کے اندر رھنے پر مجبور کرنے سے یا قرض خواہوں کے تقاضوں سے۔

اپنی ضروریات کو کاغذ پر لکھیں اور ان کی ترجیحات متعین کریں۔ اخراجات کا حساب رکھیں۔ اور آمدن کے اندر اندر خرچ کریں۔ زیادہ اہم پر خرچ کریں اگر چھوڑنا ضروری ہو تو کم اہم چھوڑ دیں۔

ساکھ قائم کرنے کی کوشش کریں تاکہ اگر کبھی قرض لینے کی ضرورت پڑ جائے تو لے سکیں۔

ھنگامی ضرورتوں مثلاً بیماری، آگ کے اخراجات کے لئے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کیجئے اور ہو سکے تو کچھ نہ کچھ انتظام ہر وقت کرکے رکھنا چاہئے۔

اپنے بچوں اور دیگر لواحقین کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا سکھائیے۔

اگر ممکن ہو سکے تو اپنے موجودہ وسائل سے کوئی اضافی آمدن پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔

سپلائی لائین محفوظ رہنی چاہئے۔ کوئی نہ کوئی متبادل ذریعہ آمدن ضرور ہونا چاہئے تاکہ صرف ایک ہی ذریعہ پر انحصار نہ ہو اور اگر وہ چھن جائے تو محتاجی سے بچا جا سکے۔

 

وقت بے شمار مسئلوں کو حل کر دیتا ہے۔ وقت ان مسائل کو بھی حل کر سکتا ہے جن کے بارے میں آپ آج پریشان ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *