[vc_row][vc_column][vc_column_text]

صحت مند آنکھ میں یہ علاج بہت مفید ہوتاہے خصوصاً تھوڑے نمبروں تک تو علاج کے نتائج بہترین ہیں، البتّہ بہت زیادہ نمبر ہو مثلاً سولہ سترہ نمبر تو پھر لیزر کی بجائے متبادل طریقوں کو اختیار کرنا چاہئے۔۔ البتہ اگر کسی کی آنکھوں میں کوئی پہلے سے ایسی بیماری ہو جو مستقل طور پر صحیح نہ ہو سکتی ہو تو پھر ضرور نقصانات ہو سکتے ہیں مثلاً

  • قرنیہ کی کوئی پرانی بیماری خصوصاً قرنیہ مخروطیہ یعنی Keratoconus اس کیفیّت میں قرنیہ کا مرکزی حصّہ پتلا ہو چکا ہوتا ہے چنانچہ لیزر لگانے سے مزید پتلا ہو سکتا ہے جس سے بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔
  • قرنیہ میں اگر مسلسل سوزش رہتی ہو۔
  • Corneal opacity یعنی قرنیہ کے اندر داغ جس سے قرنیہ کی شفّافیّت متاثر ہو جاتی ہے اور فوکس کا نقص ٹھیک ہو جانے کے باوجُود نظر مکمل ٹھیک نہیں ہو پاتی۔

حقیقت ہے کہ یہ علاج بہت سادہ اور محفوظ ہے مہنگا اِس لئے نہیں کہ خطرناک ہے بلکہ اس لئے ہے کہ اس کی مشینیں اور دیگر لوازمات بہت مہینگے ہیں علاوہ ازیں اس ٹیکنیک کے ما ہرین کم ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *