[vc_row full_width=”stretch_row” content_placement=”middle” el_class=”row-rtl”][vc_column][vc_column_text]

دیکھیں جی موسم سے وابستہ حقیقیتیں اگرچہ تلخ ہیں تاہم ہیں یہ حقیقت۔ زیادہ تر لوگوں میں سفید موتیا کا اپریشن ایمرجینسی اپریشن نہیں ہوتا۔ ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جن میں ایمرجینسی طور پر یہ اپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے سفید موتیا کا معیاری علاج ایک مہنگا علاج ہے جس کے لئے خاصی معقول رقم کا انتظام کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے ہمارے بہت سارے لوگوں کی آمدن براہِ راست یا بالواسطہ فصلوں سے وابستہ جن کا بہرحال موسم ہوتا ہے۔ اِسی طرح گرمی کا موسم اور اُس میں آنے والا پسینہ ہر ایک کے دل میں خوف پیدا کر دیاتا ہے کہ کہیں زخم خراب نہ ہو جائے۔ غرین آدمی تو ظاہر ہے ہمارے ہاں اےسی کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اب تو لوڈشیڈنگ کی اذیت نے امیروں کے لئے بھی زندگی خاصی اجیرن ہو گئی ہے۔ اِس لئے گرمی اور حبس کے موسم میں لوگوں میں اپریشن نہ کروانے کا رُجحان ابھی بھی موجود ہے۔ پھر بچوں کی اور ملازمت پیشہ لوگوں کی اپنی چُھٹیاں بھی اِس فیصلے میں حصہ ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر لاکھ کہتے رہیں کہ مو سم کی باتیں اب پُرانی ہو چکی ہیں لیکن لوگ اپنے مخصوص موسموں میں ہی اپریشن کرواتے ہیں۔

لیکن بہرحال یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ دراصل چونکہ پہلے اپریشن کی ٹیکنالوجی اِ تنی اچھی نہیں تھی اِس لئے بہت سارا خطرہ ہوتا تھا کہ کہیں خرابی نہ پیدا ہو جائے پھِر بہترین اپریشن کے بھی نتا ئج بہت اچھے نہیں ہوتے تھے اور اچھی اینٹی بائیوٹِکس میسّر نہ ہو نے کی وجہ سے انفیکشن کی تلوار بھی سر پر لٹکتی رہتی تھی اِس لئے گرم اور مرطوب موسموں میں اپریشنوں کو ملتوی کرنے کی کو شش ہی کی جا تی تھی؛ اب ایسی کِسی اِ حتیاط کی ضرورت نہیں رہی۔ اب موسموں کا لحاظ کرنا طبی نکتہنظر سے اہم نہیں رہا۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *