آپ کی نظر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر آصف کھوکھر ایک سینئر آئی سرجن ہیں جو لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر میں بطور کنسلٹنٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔ جو کہ جدید ترین تشخیصی اور سرجیکل ٹیکنالوجیز کے ساتھ پاکستان کا بہترین آنکھوں کا مرکز ہے۔

ڈاکٹر کو آنکھوں کے آپریشنز کرتے ہوئے 34 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے خصوصاً فیکو سرجری، لیزر سرجری، وٹریوریٹینل سرجری، اور اوکولوپلاسٹک سرجری میں اُن کی دلچسپی رہی ہے۔
وہ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے پرعزم ہیں۔ اُن کا مشن آنکھوں کی بیماریوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ وہ مریضوں کے لیے اپنی ہمدردی کے لیے مشہور ہیں۔ ہر مریض کو خصوصی توجہ دینا اُن کا خاصہ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے گھر میں کسی کو نظر کا مسئلہ ہے تو ماہر آئی سرجن سے بروقت مشورہ کرنا ضروری ہے۔

آپ کی بینائی قیمتی ہے — اسے تجربہ کار ہاتھوں میں محفوظ کریں

Click here and send message to book your appointment or ask your question about LASIK, Squint, or Retina

اپوائنٹمنٹ لینے کیلئے یا لاسک،بھینگاپن، یا پردہ بصارت کے بارے میں اگر کوئی سوال ہے تو یہاں کلک کرکے میسیج کریں

آنکھوں کی حَسّاسِیّت

یہ آنکھوں کی بہت عام تکلیف ہے۔ اور چونکہ اِس کا علاج لمبا ہوتا ہے اور پھر بھی زیادہ تر بیماری صرف کنٹرول میں ہی آتی ہے بالکل صحیح نہیں ہو پاتی اِس لئے عموماً علاج نامکمل کیا جاتا ہے اور مریض بہت زیادہ پیسے ضائع کرتے ہیں اور بہت سارے لوگ جھوٹی اُمیدیں دلا دلا کر علاج کے بہانے لوٹتے بھی ہیں۔ اِس لئے اِس کے بارے میں بنیادی معلومات کا جاننا بہت ضروری ہے۔

الرجی کیوں ہو جاتی ہیں؟ جسم میں کہاں نقص پیدا ہو جاتا ہے؟

الرجی اصل میں جسم میں پائی جانے والی ایک کمزوری ہے۔ جس کی وجہ سے بعض چیزوں کو جسم برداشت نہیں کر پاتا۔ جونہی اُن چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے جسم میں کچھ زہر پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ زہر جسم کو نقصان پہچانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ زہریلے مادے جسم کے اپنے ہی بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو بنیادی طور پر جسم کے دفاع کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن زہر بن جاتے ہیں۔

وہ مختلف اشیاء جن کو جسم برداشت نہیں کرتا اور جن کے خلاف زہریلے مادے پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے اُنہیں الرجن کہتے ہیں۔ عموماً تو یہ جسم کے باہر سے آتے ہیں اور جب جسم کا اِن سے تعامل ہو تب علامات پیدا ہوتی ہیں لیکن کئی لوگوں کے جسم کے اندر الرجن مستقل موجود ہوتے ہیں مثلاً جسم میں کسی جگہ پر موجود ٹی بی کے جراثیم یا مسلسل گلا خراب رہے تو گلے کے غدود میں موجود جراثیم وغیرہ اور چونکہ یہ الرجن جسم میں مستقل موجود رہتے ہیں اس لئے الرجی والے زہریلے مادے مسلسل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

اِن زہریلے مادوں کا اصل کام تو جراثیموں کو مارنا ہے لیکن یہ اپنے ہی جسم کے کسی حصّے کو جراثیم سمجھ کر اُسے نقصان پہچانا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں الرجی اور Autoimmunity کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *