آپ کی نظر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر آصف کھوکھر ایک سینئر آئی سرجن ہیں جو لاہور میڈیکیئر آئی سنٹر میں بطور کنسلٹنٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔ جو کہ جدید ترین تشخیصی اور سرجیکل ٹیکنالوجیز کے ساتھ پاکستان کا بہترین آنکھوں کا مرکز ہے۔

ڈاکٹر کو آنکھوں کے آپریشنز کرتے ہوئے 34 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے خصوصاً فیکو سرجری، لیزر سرجری، وٹریوریٹینل سرجری، اور اوکولوپلاسٹک سرجری میں اُن کی دلچسپی رہی ہے۔
وہ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے پرعزم ہیں۔ اُن کا مشن آنکھوں کی بیماریوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ وہ مریضوں کے لیے اپنی ہمدردی کے لیے مشہور ہیں۔ ہر مریض کو خصوصی توجہ دینا اُن کا خاصہ ہے۔

اگر آپ یا آپ کے گھر میں کسی کو نظر کا مسئلہ ہے تو ماہر آئی سرجن سے بروقت مشورہ کرنا ضروری ہے۔

آپ کی بینائی قیمتی ہے — اسے تجربہ کار ہاتھوں میں محفوظ کریں

Click here and send message to book your appointment or ask your question about LASIK, Squint, or Retina

اپوائنٹمنٹ لینے کیلئے یا لاسک،بھینگاپن، یا پردہ بصارت کے بارے میں اگر کوئی سوال ہے تو یہاں کلک کرکے میسیج کریں

آج سے پچیس تیس سال پہلے تک تو اپریشن کا طریقہ یہ تھا کہ خراب عدسے کو نکال دیا جاتا تھا اور اُس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تھی لینز نہیں ڈاالا جاتا تھا چنانچہ اُس عدسے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مو ٹے موٹے شیشوں والی عینکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ اِن موٹے شیشوں والی عینکوں کے ذریعے نظر تو واپس آ جاتی تھی لیکن اُس کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہوتی تھی۔ نابینا اور معذور شخص کو جتنی بھی نظر مل جاتی وہ خوش ہو جاتا تاہم یہ عینکیں بذاتِ خود معذوری کا با عث ہوتی تھیں.

لیکن اب مدت ہائے دراز سے یہ طریقہ متروک ہو گیا ہے۔ اب خراب قدرتی عدسے کو نکالنے کے بعد اُس کا ایک مصنوعی متبادل عدسہ آنکھ کے اندر ہی ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی عدسہ اُسی جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے جو قدرتی عدسہ کے نکلنے سے خالی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اپریشن کے بعد نظر کی کوالٹی قدرتی نظر کے بہت قریب ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ بالکل قدرتی نظر واپس آ جاتی ہے لیکن پرانے طریقِ کار سے اگر موازنہ کیا جائے تو یقیناً زمین آسمان جیسا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ماضی قریب میں مارکیٹ میں آنے والے عدسات سے تو بہت ہی زیادہ بہتری آ گئی ہے۔ لینز کے بغیر اپریشن کروانا تو اب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کے پاس کار پر سوار ہو کر لاہور سے اسلام آباد جانے کی سہولت ہو لیکن وہ فیصلہ کرے کہ میں نے پیدل جاؤں گا۔ حالانکہ اب تو ہوائی جہاز کی سہولت بھی موجود ہے۔

لینز کے بغیر اپریشن اور لینز کے ساتھ اپریشن میں اِتنا زیادہ فرق ہے کہ اب تقریبا ً اِس بات پر سب اتھارٹیز کا اِتفاقِ رائے ہو چکا ہے کہ اگر لینز کا نمبر زیرو بھی نکل رہا ہو تو پھِر بھی لینز کے بغیر اپر یشن نہیں ہونا چاہئے بلکہ زیرو نمبر کا لینز ڈالا جانا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *