[vc_row full_width=”stretch_row” content_placement=”middle” el_class=”row-rtl”][vc_column][vc_column_text]

آج سے پچیس تیس سال پہلے تک تو اپریشن کا طریقہ یہ تھا کہ خراب عدسے کو نکال دیا جاتا تھا اور اُس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تھی لینز نہیں ڈاالا جاتا تھا چنانچہ اُس عدسے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مو ٹے موٹے شیشوں والی عینکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ اِن موٹے شیشوں والی عینکوں کے ذریعے نظر تو واپس آ جاتی تھی لیکن اُس کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہوتی تھی۔ نابینا اور معذور شخص کو جتنی بھی نظر مل جاتی وہ خوش ہو جاتا تاہم یہ عینکیں بذاتِ خود معذوری کا با عث ہوتی تھیں.

لیکن اب مدت ہائے دراز سے یہ طریقہ متروک ہو گیا ہے۔ اب خراب قدرتی عدسے کو نکالنے کے بعد اُس کا ایک مصنوعی متبادل عدسہ ڈال بھی دیا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی عدسہ اُسی جگہ پر فٹ کر دیا جاتا ہے جو قدرتی عدسہ کے نکلنے سے خالی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے اپریشن کے بعد نظر کی کوالٹی قدرتی نظر کے بہت قریب ہوتی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ بالکل قدرتی نظر واپس آ جاتی ہے لیکن پرانے طریقِ کار سے اگر موازنہ کیا جائے تو یقیناً زمین آسمان جیسا فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ خاص طور پر ماضی قریب میں مارکیٹ میں آنے والے عدسات سے تو بہت ہی زیادہ بہتری آ گئی ہے۔ لینز کے بغیر اپریشن کروانا تو اب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کے پاس کار پر سوار ہو کر لاہور سے اسلام آباد جانے کی سہولت ہو لیکن وہ فیصلہ کرے کہ میں نے پیدل جانا ہے۔ حالانکہ اب تو ہوائی جہاز کی سہولت بھی موجود ہے۔

لینز کے بغیر اپریشن اور لینز کے ساتھ اپریشن میں اِتنا زیادہ فرق ہے کہ اب تقریبا ً اِس بات پر سب اتھارٹیز کا اِتفاقِ رائے ہو چکا ہے کہ اگر لینز کا نمبر زیرو بھی نکل رہا ہو تو پھِر بھی لینز کے بغیر اپر یشن نہیں ہونا چاہئے بلکہ زیرو نمبر کا لینز ڈالا جانا چاہئے۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_cta h2=”ضروری گذارش” txt_align=”right” css=”.vc_custom_1634059566222{background-color: #a2e8aa !important;}”]

اگر آپ ان معلومات کو مفید سمجھتے ہیں تو نیچے کمنٹ ضرور کریں، اسی طرح اگر کوئی مزید معلومات درکار ہیں تو کمنٹ میں تحریر فرمائیں۔

[/vc_cta][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *