[vc_row full_width=”stretch_row” content_placement=”middle” el_class=”row-rtl”][vc_column][vc_column_text]

بلاشبہ لینز کی وجہ سے موٹے موٹے شیشوں والی عینکوں سے نجات مل گئی ہے لیکن اکثر لوگوں کو کُچھ نہ کُچھ ہلکے سے نمبر والی عینک لگا نی ہی پڑتی ہے۔خاص طور پر قریب کا کام کر نے کے لئے تو تقر یباً سب کو ہی عینک کی ضرورت پڑ تی ہے۔ اپریشن کے بعد عینک لگنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند کا مختصراً تذکرہ ذیلی سطور میں کیا جاتا ہے:

اپریشن کرتے ہوئے سرجن کے لئے بہت اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کا لینز ڈالنا ہےبالکل اُسی طرح جیسے عینک کے لئے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کتنے نمبر کی عینک لگے گی۔ لینز کا نمبر نکالنے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں جن میں کئی مواقع پر غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ یا تو مشین غلطی کر جاتی ہے یا پھر مشین کو استعمال کرنے والے سے غلطی ہو جاتی ہے۔ جتنی اچھی مشینیں استعمال کی جائیں گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ اِس طرح جتنا سرجن کو زیادہ مہارت ہو گی اُتنا ہی غلطی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔
اپریشن کے دوران پیچیدگی ہو جائے تو لینز کی فٹنگ میں کچھ فرق رہ جائے تو صحیح نمبر کا لینز بھی صحیح کام نہیں کرتا اور کچھ نہ کچھ عینک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
جب لینز کا نمبر نکالا جاتا ہے تو اُس نمبر کا فیصلہ کرنے میں یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ مریض کی ضروریات کی نوعیت کا ہے؟ اُ سکے حساب سے سرجن فیصلہ کرتا ہے وہ لینز کا نمبر کیسے سیٹ کرے۔ مثلاً
دور کی نظر کا استعمال اگر زیادہ ہے تو وہ دور کے لئے نظر کو 6/6 رکھنے کی کوشش کرے گا، اِس صورت میں نزدیک کی عینک لازمی ہو جائے گی۔
جو لوگ نظر کی بہت زیادہ مصروفیات نہیں رکھتے مثلاً عمررسیدہ لوگ تو ایسے لوگوں کو عموماً ایسے نمبر کا لینز دیا جاتا ہے کہ جس سے اُن دور کا بھی سارا کام چلتا رہتا ہے اور قریب کا بھی حالانکہ اُن کو دور کی بھی ہلکی سی عینک لگتی ہے اور قریب کی بھی لیکن چونکہ وہ بہت باریکی کا کام نہ دور کا کرتے ہیں اور نہ ہی قریب کا اِس لئے اُن کو محسوس نہیں ہوتا۔
بعض ڈاکٹر بھی اور بعض مریض بھی اِس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایک آنکھ کی دور کی نظر مکمل طور پر صحیح کر دی جائے اور دوسری آنکھ کی قریب کی۔ اِس طرح عملاً سارا کام عینک کے بغیر ہوتا رہتا ہے اور عینک کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
ایک اہم مسئلہ جو ڈاکٹر کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک آنکھ کا پہلے سے اپریشن ہو چکا ہے اور اُس میں نظر صحیح نہیں ہے اب اُسے نمبر کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دوسروں آنکھوں کی نظر میں توازُن نہ خراب ہو جائے۔ مثلاً بعض اوقات اپریشن کے بعد دو دو نظر آنے لگ جاتے ہیں، یا ایک آنکھ سے چیزیں ذرا بڑی اور دوسری انکھ سے ذرا چھوٹی نطر انے لگتی ہیں۔
ایک بڑا اہم مسئلہ اُس وقت سامنے اتا ہے کہ جب ایک آنکھ کا اپریشن ضروری ہو جائے لیکن دوسری آنکھ کی نظر ابھی بہت اچھی ہو اور مستقل قریب میں اُس کا اپریشن ہونے کی ضرورت نظر نہ ارہی ہو۔ اب اگر دوسری آنکھ میں بڑے نمبر کی منفی یا مثبت نمبر کی عینک لازمی ہو اور سرجن اپریشن کے زریعے اِس آنکھ کو نارمل کر دے جو کہ بغیر عینک کے دیکھ سکتی ہو تو دونوں آنکھوں کا توازن نہیں بن پائے گا۔ مریض اپریشن کے بعد بھی ایک آنکھ ہی استعمال کرنے پر مجبور رہے گا چنانچہ دوسری آنکھ کے حساب سے حقیقی نمبر سے کچھ زیادہ یا کم نمبر کا لینز ڈالنا پڑتا ہے۔
غیر معیاری کمپنوں کے بارے میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ پیکنگ کے اوپر لینز کا جو نمبر لکھا ہوتا ہے اندر لینز اُس نمبر کا نہیں ہوتا سرجن تو کسی اور نمبر کا لینز ڈال رہا ہوتا ہے لیکن حقیقتاً کسی اور نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ جس سے مریض کو پھر عینک استعمال کرنی پڑتی ہے۔
بعض اوقات اپریشن تھیٹر میں مختلف نمبروں کے لینز اکٹھے پڑے ہوتے ہیں جن میں سے غلطی سے غلط نمبر کا لینز ڈال دیا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں عینک لگانا مجبوری بن جاتی ہے۔
اگر کسی کی آنکھ میں سلنڈر نمبر کی عینک لگتی ہے تو یہ کمی لینز کے ذریعے سے عام طور پر دور نہیں ہوتی۔ اب جدید لینز ایسے آ گئے ہیں جنیں ٹورک لینز کہتے ہیں اُن سے کافی حد تک یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن یہ بہت مہنگے لینز ہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں چنانچہ زیادہ لوگوں میں اپریشن کے بعد بھی سلنڈر نمبر کی عینک لگانی ضروری ہوتی ہے۔
کئی لوگوں میں گلیئر کا مسئلہ ہوتا ہے جو کہ بہت سے لوگوں میں پردہ بصارت کی خرابی کے باعث ہوتا ہے تو اُن کو اِس مسئلے کے لئے عینک استعمال کرنا پڑتی ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *