[vc_row][vc_column][vc_column_text]

عینک کب اِستعمال کر نی چا ہئے؟ نزدیک کا کام کر تے ہو ئے یا دُور کا کام کر تے ہو ئے؟

یہ بھی ایک بڑی عام غلط فہمی ہے؛ لوگ سمجھتے ہیں کہ عینک یا تو دور کے کام کے لئے ہوتی ہے یا نزدیک کا کام کرنے کے لئے۔ حالانکہ مریضوں کی اکثریت کو جو عینک لگتی ہے وہ ہر وقت لگانے کے لئے ہوتی ہے۔ دور کے لئے بھی ضروری ہوتی ہے اور نزدیک کے لئے بھی۔ اگر اِس طرح استعمال نہ کیا جائے تو عینک کا عملاً کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ خاص طور پر چالیس سال کی عمر سے پہلے تو سب کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر وقت عینک استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر جو بوجھ پڑتا ہے اُس سے بچا جا سکے۔ چنانچہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ

  • چا لیس سال کی عمر سے پہلے جو بھی نمبر لگے ﴿خواہ مثبت ،منفی، یا سلنڈر﴾ وہ ہر وقت اِستعما ل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
  • چا لیس سال کی عمر کے بعد دُور اور نزدیک کے نمبر مختلف ہو جاتے ہیں اُس وقت ممکن ہے صرف دُور کے لئے ضرورت ہو یا صرف نزدیک کے لئے۔

اگر دور اور نزدیک کے لئے علیحدہ علیحدہ نمبر تجویز کیے گئے ہوں تو اِس صورت میں دُور اور نزدیک کی عینک اکٹھی بنوانی چا ہئے یا علیحدہ علیحدہ؟

اِس کا فیصلہ عموماً اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف عوامل کو دیکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ جن میں سے چند درجِ ذیل ہیں:

  • زیادہ عمر کے لوگوں کی ضرورت عموماً بہت زیادہ باریکی کے کاموں کی نہیں ہوتی۔ اور اُن کی زندگی بھی شدید مصروفیات والی نہیں ہوتی، پھر عموماً اُن کی عینکوں کے نمبر اکثر بڑے ہوتے ہیں اِس لئے وہ بھی علیحدہ علیحدہ عینکوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈاکٹر بھی اِسی کی ترغیب دیتے ہیں۔
  • کم پڑھے ہوئے لوگوں کی ضروریات بھی عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بھی زیادہ تر علیحدہ علیحدہ عینکیں بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • جو لوگ زیادہ تر وقت قریب کے کام میں مصروف رہتے ہیں اُن کے لئے بھی ڈبل شیشوں والی عینک زیادہ آرام دہ نہیں ثابت ہوتی۔ وہ علیحدہ علیحدہ عینکیں بنوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • منفی نمبر کے عدسوں والی عینک والے لوگ عموماً نزدیک کے کام میں عینک کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اِس لئے وہ بھی علیحدہ عینک بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جن لوگوں کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ہے اُن کا نمبر اگر بہت زیادہ نہ ہو تو اکٹھی عینک بنانے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ اگر عینک کا نمبر کافی زیادہ ہو تو پھر اکٹھی عینک تنگ کرتی ہے اس لئے علیحدہ علیحدہ عینکیں ہی اُن کے لئے بہتر رہتی ہیں۔
  • وہ پڑھے لکھے لوگ جنھیں اکثر کمپیوٹر پر مصروف رہنا ہوتا ہے۔ یا جنھیں لیکچرز دینے یا سننے جیسی مشغولیت ہوتی ہے ایسے لوگوں کے لئے ملٹی فوکل عدسے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔

عینک کا نمبر اگر بہت زیادہ نہ ہو تو اکثر لوگوں کے لئے اکٹھی عینک ہی زیادہ بہتر ہو تی ہے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اِس کے کچھ اپنے مسائل بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا پڑتا ہے۔

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

کوئی تبصرہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *